Showing posts with label قربانیکا جانور، قربانی کس پر واجب ہے، حاجات اصلیہ. Show all posts
Showing posts with label قربانیکا جانور، قربانی کس پر واجب ہے، حاجات اصلیہ. Show all posts

Friday, July 2, 2021

قربانی کا جانور // قربانی کس پر واجب// حاجات اصلیہ // Qurbani ky Zrori Masail

 مندرجہ ذیل قسم کے جانور قربانی کرنے کے لیے درست نہیں

1۔ ایسا جانور جس  کا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔

 2۔ایسا جانور جو بیمار ہو اور  جس کی بیماری ظاہر ہو۔

3 ۔ایسا جانور جو لنگڑا اور   جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ۔

ایسا جانور جو ایسا لاغر ہو کہ جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔

 5۔ایسا جانور جس   کے کان کٹے ( جڑ تک ) ہوئے ہوں اورجس کے  سینگ ٹوٹے ہوئےہوں ایسے  جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۔

 حوالہ جات :  ( ترمذی شریف۔ حدیث نمبر 1536، نسائی شریف۔ حدیث نمبر 4389)

قربانی کس پر واجب ہے ؟

قربانی ہر مسلمان( مرد اور عورت )  پر واجب ہے جو بالغ، مقیم اور حاجات اصلیہ کے علاوہ اتنے سونے، چاندی یا دیگر مال و سامان کا مالک ہو جس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت ( موجودہ ریٹ  2021-07- 02کے مطابق تقریباََ 80،000 روپے) کے برابر ہو۔

حوالہ جات : (فتاویٰ شامی جلد نمبر 2۔ صفحہ 37،  فتاوی ٰ رضویہ ۔ جلد 4 صفحہ نمبر 410-417 )

حاجات اصلیہ !

رہنے کا مکان چاہے  کرائے کا ہو ، گرمی اور سردی کا ایک ایک بستر ، پہننے کے تین جوڑے ایک کام کاج والا ایک عام پہننے کے لئے اور ایک جمعہ و عیدین کے لیے اس سے اضافہ جتنے بھی مکان ، بستر اور کپڑے ہوں اگر وہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے ہوں تو قربانی واجب ہے۔ اسی طرح گھر میں خانہ داری کے ضروری سامان اور سواری کے علاوہ جتنا بھی سامان ہو اگر وہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو قربانی واجب ہے۔ جہیز کا سامان عورتوں کی ملکیت ہوتا ہے اگر وہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس عورت پر قربانی واجب ہو گی۔ اگر اس کے پاس پیسے نہ ہوں تو قرض لے کر یا سامان بیچ کر قربانی کرے ۔ اسی طرح وہ صاحب نصاب جس کے پاس وقتی طور  پیسے نہ ہوں اس کے لیے بھی قرض لے کر یا سامان بیچ کر قربانی کرنا واجب ہے ۔